Sunday, November 2, 2014

زمینوں میں سرمایہ کاری بنیادی نکات



زمینوں میں سرمایہ کاری بنیادی نکات
آج کل بہت سے لوگ زمینوں میں سرمایہ کاری کےخواہاں ہوتے ہیں مگر اسے کیسے شروع کریں کہاں سرمایہ کاری کریں اس بارے میں تھوڑا کنفیوز ہوتے ہیں۔ زمینوں میں سرمایہ کاری شئیرز یا دوسری سرمایہ کاری کی اسکیموں سے مختلف ہوتی ہے خصوصا نئے آنے والے سرمایہ کاروں کو انوسٹمنٹ سے پہلےکچھ باتوں کو لازمی زہن میں رکھنا چاہئے۔سرمایہ کاری ہمیشہ وہاں کی جائے جہاں آپکا سرمایہ محفوظ ہو رسک کم سے کم ہو۔
زمینوں میں سرمایہ کاری عارضی شارٹ ٹرم یا لانگ ٹرم کی جاتی ہے۔شارٹ ٹرم میں سرمایہ کار کچھ عرصے کے لیے زمین،فلیٹ،دکان یا کمرشل زمین خریدتا ہے اور جیسے ہی کوئی اچھی آفر ملتی ہے اسے بیچ دیتا ہے ایسی انوسٹمنٹ کرتے وقت موجودہ قیمت کے بارے میں صحیح اندازہ آنے والے دنوں میں اسکی قیمت میں اضافہ کے بارے میں مکمل آگاہی لازمی ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی حکومتی ٹیکسس اور بروکر کمیشن کو بھی زہن میں رکھنا لازمی ہے۔بروکر حضرات اپنے پاس موجود ہر زمین کو ہی سونا کہتے ہیں انوسٹر کو خود بھی مختلف زرایع سے اسکی تصدیق لازمی کرلینی چاہئے۔جیسے ایسے بروکر حضرات جو اس پروجیکٹ کی فروخت کا کام نہ کرتے ہوں ان سے یا ایسے انوسٹرز جو اس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری نہ کرتے ہوں یہ جاننا آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جس بھی پروجیکٹ میں آپ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں اسکا پرانا رکارڈ،اخبارات میں آنے والی اس پروجیکٹ کے بارے میں خبریں اس پروجیکٹ کے سابقہ پروجیکٹس ان کے بارے میں لوگوں کی اور سرمایہ کاروں اور اسٹیٹ ایجنٹس کی رائے۔ساتھ ہی کسی ایسے اسٹیٹ ایجنٹ سے تعلقات جسے اپنے منافع سے زیادہ اپنی مارکیٹ میں موجود ساکھ کی فکر ہو کیونکہ ایسے اسٹیٹ ایجنسی والے اپنے انوسٹرز کو غلط مشورہ دینے سے پرہیز کرتے ہیں

طویل مدتی سرمایہ کاری

اس طرح کی سرمایہ کاری عموما ماہانہ آمدنی حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے جس میں انوسٹر اپنا سرمایہ بنکس کی ماہانہ بچت اسکیموں،قومی بچت اسکیموں،یا شئیر مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔بنکس سے کم منافع اور روپے کی قدر میں ہونے والی کمی کی وجہ سے اور شئیر مارکیٹ کی ناقابل اعتبار بدلنے والی صورتحال کی وجہ سے اکژ لوگ زمینوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔جیسے اگر کوئی شخص بنکس میں دس لاکھ کی سرمایہ کاری کرتا ہے تو اسے ماہانہ منافع تقریبا تمام حکومتی ٹیکسس کی کٹوتی کے بعد سات سو روپے فی ایک لاکھ اور دس لاکھ پر تقریبا سات ہزارمہینہ حاصل ہوتا ہے جو کہ دس سالوں میں سات لاکھ بن جاتا ہے۔مگر ان دس سالوں میں جو روپے کی قدر میں کمی آتی ہے مہنگا ئی کی مناسبت سے تو دس سال بعد اسکے سترہ لاکھ کی ویلیو دس لاکھ یا اس سے بھی کم ہوتی ہے۔دس سال پہلے پٹرول،سونا،کھانے پینے کی اشیائہ کی قیمتیں اور دس سال بعد ان چیزوں کی قیمتیں تقریبا دگنی ہوچکی ہوتی ہیں۔ایسے لوگوں کے لیے پراپرٹی میں سرمایہ کاری زیادہ بہتر ہے۔ کہ اگر وہ کوئی مکان یا فلیٹ خریدتے ہیں تو ماہانہ انکو کرائے کی مد میں منافع تھوڑا ہوگا جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گا مگر دس سال بعد انکے فلیٹ کی قیمت کم ازکم بیس سے تیس لاکھ ہوگی۔ جبکہ ماہانہ کرایہ جو وہ اس فلیٹ سے حاصل کرتے رہے وہ اسکے علاوہ ہے۔

1 comment: